0

پاکستان کےساتھ دفاعی اورسلامتی تعاون کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں، چین

بیجنگ (یو پی اے) چین کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان دفاعی اور سلامتی تعاون کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں، یہ بین الاقوامی اور علاقائی سلامتی و استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔

گوادر پرو کے مطابق چین کی وزارتِ دفاع کے ترجمان سینئر کرنل جیانگ بن نےجمعہ کو حالیہ عسکری امور سے متعلق پیش رفت پر باضابطہ ردعمل دیا۔جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا کہ پاکستان آرمی ایوی ایشن کور نے دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے کے لیے چینی ساختہ Z-10ME اٹیک ہیلی کاپٹرز شامل کیے ہیں، تو سینئر کرنل جیانگ بن نے کہا چین اپنے دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں حاصل شدہ کامیابیاں دوست ممالک، بشمول پاکستان، کے ساتھ بانٹنے کے لیے تیار ہے۔

چین اور پاکستان کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں، بلکہ عالمی اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔پاکستان نے اپنے کئی دہائیوں پرانے امریکی ساختہ AH-1F کوبرا اٹیک ہیلی کاپٹرز کو مرحلہ وار ختم کر کے چینی Z-10ME گن شپ ہیلی کاپٹرز کو فضائی بیڑے میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے، جو عسکری ہوا بازی کے شعبے میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔

اس سے قبل پاکستان نے امریکی AH-1Z وائپر اور ترکی کے T-129 ہیلی کاپٹرز حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم امریکی پابندیوں کے باعث یہ معاہدے عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔ سال 2021 میں پاکستان نے چین کے ساتھ کم از کم 30 Z-10ME ہیلی کاپٹرز کی خریداری کا معاہدہ کیا، جن کی ترسیل 2023 سے جاری ہے۔ اوسپری” کے نام سے پہچانے جانے والا Z-10ME، چین کے Z-10 اٹیک ہیلی کاپٹر کا برآمدی اور کثیرالمقاصد ورژن ہے، جو غیر ملکی خریداروں کے لیے تیار کیا گیا دوسرا چینی گن شپ ہیلی کاپٹر ہے، پہلا ماڈل Z-19E تھا۔ یہ پہلی بار 2016 کے ژوہائی ایئر شو میں ماڈل کی صورت میں پیش کیا گیا، جب کہ مکمل شکل میں 2018 میں منظرِ عام پر آیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں