0

پاکستان سے اُرمچی کو دو سال بعد تازہ سمندری خوراک کی درآمدات بحال

اُرمچی (یوپی اے)پاکستان سے دو سال بعد کے وقفے کے بعد تازہ سمندری خوراک کی پہلی کھیپ ا ُرمچی تیانشان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گئی، یہ ملکی سطح پر درآمد شدہ آبی مصنوعات کے لیے مخصوص انسپیکشن سائٹ کے دوبارہ فعال ہونے کی نشانی ہے۔

چائنا اکنامک نیٹ کے مطابقاسلام آباد سے چلنے والی چائنا سدرن ایئرلائنز کی پرواز CZ6008 کے ذریعے پہنچنے والی اس کھیپ کا وزن 1,292 کلوگرام ہے، جس میں بلیک پومفریٹ، جھینگے، ہیئر ٹیل اور گروپر شامل ہیں۔ یہ کھیپ درآمد کنندگان، کسٹمز اور ایئرپورٹ حکام کے درمیان دو ماہ کی منصوبہ بندی کے بعد پہنچائی گئی۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق قبل ازیں، سنکیانگ میں سمندری غذا چین کے ساحلی علاقوں سے نقل و حمل کے ذریعے پہنچتی تھی، جس کی وجہ سے وقت اور لاگت میں اضافہ ہوتا تھا۔ اب براہِ راست ہوائی جہاز کے ذریعے آمد سے ترسیل کے اوقات کم ہوئے ہیں، جس سے مصنوعات کی تازگی برقرار رہتی ہے اور درآمد کنندگان کے اخراجات کم ہوتے ہیں۔

تیانشان ایئرپورٹ کے کسٹمز حکام نے پیشگی تعاون اور انتظامات کے ذریعے کلیئرنس کے عمل کو تیز کیا اور انسپیکشن کو آسان بنایا تاکہ تمام قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری ہو سکے۔پاکستان کی گہرے سمندرکی ماہی گیری کی مصنوعات چینی صارفین میں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔ اُرُمچی کے کولڈ چین انفراسٹرکچر کی بحالی علاقائی تجارتی رابطوں کو فروغ دینے کا اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

سنکیانگ ایئرپورٹ گروپ نے کھانے کے قابل آبی جانوروں کی درآمد کے لیے سرکاری اجازت نامے کی درخواست دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کے ایشیا، یورپ اور افریقہ تک وسیع نیٹ ورک کی بدولت چیری، لوبسٹر اور سالمون جیسی تازہ عالمی مصنوعات براہِ راست مقامی صارفین تک پہنچائی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں