0

پاکستان کی چین کو ڈینٹل مصنوعات کی برآمدات میں 4 فیصد اضافہ

بیجنگ (یو پی اے) رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کی چین کو ڈینٹل آلات اور اشیاء کی برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 20 لاکھ ڈالر کی سطح تک پہنچ گئیں۔ جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ برآمدات 19 لاکھ 30 ہزار ڈالر تھیں۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (GACC) کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان سے مجموعی طور پر 2 لاکھ 5 ہزار 840 کلوگرام ڈینٹل سے متعلق آلات چین بھیجے گئے، جن کی اوسط قیمت 0.47 امریکی ڈالر فی کلوگرام رہی، جو عالمی منڈی میں انتہائی مسابقتی تصور کی جاتی ہے۔ ”

یہ اضافہ دونوں ممالک کے درمیان طبی شعبے میں بڑھتے ہوئے تجارتی رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں پاکستان کی چین کو میڈیکل اور سرجیکل آلات کی مجموعی برآمدات 55 لاکھ 60 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جب کہ ویٹرنری آلات کی برآمدات 32 لاکھ 40 ہزار ڈالر اور آنکھوں سے متعلق آلات (آپتھالومک ایکوئپمنٹ) کی برآمدات 1 لاکھ 55 ہزار 465 ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ قونصلر غلام قادر نے بتایا کہ یہ تجارتی اضافہ جزوی طور پر ان کروڑوں ڈالر مالیت کی اسٹریٹجک شراکت داریوں کا نتیجہ ہے، جو جنوری 2025 میں پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان طے پائیں۔

یہ معاہدے بیجنگ میں ہونے والی بی ٹو بی میڈیکل کانفرنسز کے ذریعے ممکن ہوئے، جن میں چین-پاکستان آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کے تحت 3 سے 5 فیصد ٹیرف میں کمی اور سپلائی چین کے انضمام کو ترجیح دی گئی۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا صنعتی شہر سیالکوٹ، جو دنیا بھر میں میڈیکل آلات تیار کرنے والا پانچواں بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے، نے کم پیداواری لاگت اور یورپی معیار کی تعمیل (EU-اسٹینڈرڈ) کو بروئے کار لاتے ہوئے چین کی بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی طبی مصنوعات کی طلب کو کامیابی سے پورا کیا۔

چین میں پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے پاکستان کی “اسٹریٹجک رابطہ کاری” اور “خام مال کے ذخائر” کو اس تجارتی نمو کو برقرار رکھنے میں کلیدی حیثیت قرار دیا۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق یہ امر قابل ذکر ہے کہ کراچی میں 23 سے 25 اکتوبر کو منعقد ہونے والی “ہیلتھ ایشیا 2025” نمائش پاکستانی مینوفیکچررز کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگی، جہاں وہ ایشیا بھر سے آئے ہوئے 500 سے زائد خریداروں سے ملاقات کے مواقع حاصل کریں گے اور اعلیٰ قدر کی حامل مصنوعات میں مشترکہ منصوبوں کی تلاش کر سکیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں