نانجنگ(یوپی اے)چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا نے نانجنگ میں منعقدہ ایک بین الاقوامی یوتھ ایکسچینج ایونٹ میں پاکستان کے قدرتی عجائبات اور فنِ تعمیر کے شاہکار فخر سے پیش کیے۔یہ تقریب 15 اگست کوہونے والے چین کے قومی دن کی مناسبت سے منعقد کی گئی تھی۔ “کتابوں کے ذریعے مکالمہ: ماحولیاتی تحفظ اور شہری ترقی” کے عنوان سے منعقدہ اس پروگرام میں پاکستان، چین، کیمرون، نیپال اور مراکش سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد نوجوان شریک ہوئے۔
شرکاء نے ماحولیاتی تحفظ اور ثقافتی ہم آہنگی جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ نانجنگ ٹیک یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی پاکستانی طالبات، فاریہ رشید اور مناہل آفتاب نے بین الاقوامی یوتھ ایکسچینج ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ایسی دل موہ لینے والی پریزنٹیشنز پیش کیں جنہوں نے تاریخی ورثے کو ماحولیاتی شعور سے خوبصورتی سے جوڑ دیا۔فاریہ رشید، جن کا تعلق لاہور سے ہے، نے یونیسکو کے دو عالمی ثقافتی ورثہ مقامات تاریخی لاہور قلعہ اور دلکش شالیمار باغات کا تفصیلی تعارف پیش کیا۔ انہوں نے مغلیہ دور کی ان یادگاروں کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی اور شرکاء کو پاکستان کے منفرد ثقافتی حسن کا براہِ راست تجربہ کرنے کی دعوت بھی دی۔ پاکستان کے شمالی علاقے سے تعلق رکھنے والی مناہل آفتاب نے اپنی پریزنٹیشن کے دوران دلکش مناظر اور خوبصورت تصاویر کے ذریعے ہنزہ اور سکردو کی وادیوں کا ایسا خوبصورت تعارف پیش کیا کہ حاضرین حیران رہ گئے۔
انہوں نے نہ صرف ان فطری عجائبات کی خوبصورتی کو اجاگر کیا بلکہ پاکستان کی جانب سے ان کے تحفظ اور پائیدار سیاحت کو فروغ دینے کے عزم پر بھی روشنی ڈالی۔ گوادر پرو کے مطابق پاکستانی طلبہ کی متاثرکن پیشکشیں اس بین الاقوامی ثقافتی تبادلے کا حصہ تھیں، جس میں سات چینی پرائمری اسکول کے طلبہ نے بھی حصہ لیا اور اپنے ملک کی ماحولیاتی اور شہری ترقی کی نمایاں کامیابیاں پیش کیں۔چینی طلبہ نے جانگ سو صوبے کے یانچینگ شہر میں واقع دافینگ میلیو (ایلک) نیچر ریزرو میں جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں کو اجاگر کیا، ساتھ ہی شنگھائی کے مشہور اورینٹل پرل ٹاور کی فنِ تعمیر کو بھی پیش کیا۔ گوادر پرو کے مطابق انہوں نے یانگژو شہر کے گرینڈ کینال کے ثقافتی ورثے، ووڈالیانچی کی آتش فشاں جھیلوں کی فطری خوبصورتی اور چینگداؤ میں ایس سی او ڈیموسٹریشن ایریا کی شہری جدت کو بھی نمایاں کیا۔
گوادر پرو کے مطابق اس پروگرام کا اختتام انتہائی پر اثر انداز میں ہوا جب تمام شرکاء نے ایک مشترکہ حلف نامہ پڑھا جس کا عنوان تھا “یوتھ انیشی ایٹو برائے ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار شہری ترقی”۔یہ دو لسانی (بنگلہ اور چینی) حلف نامہ عالمی تعاون، ماحولیاتی تحفظ، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور کم کاربن طرز زندگی اپنانے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ایونٹ کے منتظمین میں سے ایک، جیانگ وینجیے نے کہا ہم ایک دوسرے سے سیکھ کر، پاکستان اور چین کے نوجوان ایک سبز اور زیادہ پائیدار دنیا کی تعمیر میں قیادت کر سکتے ہیں

