بیجنگ (یو پی اے) رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان نے چین کو203.29 ملین ڈالر مالیت کا کاٹن یارن برآمد کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (GACC) کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار 2024 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 19 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں، جب برآمدات 251.51 ملین ڈالر تھیں ۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کمی کے باوجود پاکستان اور چین کے درمیان ٹیکسٹائل کے شعبے میں دو طرفہ تجارتی تعلقات مستحکم ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، جنوری سے جون 2025 کے دوران کموڈیٹی کوڈ 52051200 کے تحت بغیر صاف سنگل کاٹن یارن 112 ملین ڈالر تک برآمد کیا گیا، جو کہ گزشتہ سال کے 144.85 ملین ڈالر کے مقابلے میں کم ہے۔ اس دوران اس کی اوسط قیمت 2.40 ڈالر فی کلوگرام رہی جبکہ مجموعی طور پر46.48 ملین کلوگرام یارن چین کو بھیجا گیا۔ اس زمرے میں ویتنام340.69 ملین ڈالر کی برآمدات کے ساتھ سرفہرست رہا جبکہ پاکستان دوسرے نمبر پر رہا۔ دوسری جانب کموڈیٹی کوڈ 52051100 کے تحت برۤمدات 90 ملین ڈالرریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں102.96 ملین ڈالر تھیں۔
چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق کیوِن ٹریڈنگ لمیٹڈ (چین) کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ سجاد مظاہر کے مطابق، کاٹن یارن کی برآمدات پاکستان کی روایتی صنعت رہی ہیں، جو اب جدید تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “پاکستانی صنعت اب صرف روایتی مصنوعات سے ہٹ کر برانڈ بیسڈ خام مال اور سپلائی چین مینجمنٹ پر کام کر رہی ہے۔ اب متعدد فیکٹریوں کے پاس بین الاقوامی سطح پر رجسٹرڈ ٹریڈ مارکس اور آئی پی رائٹس موجود ہیں، جس سے پاکستان کی شناخت میں اضافہ ہوا ہے۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ چین کو یارن کی برآمدات پاکستان کو مستحکم مالی نظام کے تحت قیمتی زرمبادلہ فراہم کر رہی ہیں، کیونکہ زیادہ تر لین دین چینی بینکوں کے لیٹر آف کریڈٹ (LC) کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی مجموعی پیداوار کا 10 سے 15 فیصد حصہ برآمد کیا جا رہا ہے، جبکہ باقی ملک کے اندر ملبوسات، خاص طور پر کیژول ویئر کی تیاری میں استعمال ہو رہا ہے۔
سجاد مظاہر کے مطابق، توانائی، لاجسٹکس اور مالیاتی اخراجات میں اضافے کے باوجود پاکستانی یارن کی چینی ڈینم مارکیٹ میں طلب برقرار ہے، جس کی بڑی وجہ اس کا معیار اور مسابقتی قیمتیں ہیں۔ پاکستانی روایتی کپاس کی اقسام اعلیٰ معیار کے یارن کی تیاری میں آج بھی سبقت رکھتی ہیں، جو ڈینم، تولیے، نِٹ ویئر اور موزوں کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق پاکستان کی روایتی اقسام کی کپاس اب بھی اعلیٰ معیار کے دھاگے بنانے میں برتری رکھتی ہیں، جو ڈینم، تولیے، نٹ ویئر اور موزوں کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں، اور یہ ٹیکسٹائل تجارت کو پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کا ایک اہم حصہ بنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمی دراصل مثبت ہے کیونکہ چین-پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے تحت پاکستان اب چین کو زیادہ تکمیلی (فنشنگ) مصنوعات برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک طویل سفر ہے اور حکومت اور نجی شعبے کی مسلسل کوششیں پاکستان کو صنعتی مواقع سے بہتر طور پر فائدہ اٹھانے کے قابل بنائیں گی

