اسلام آباد (یو پی اے) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے افغانستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لیے انگور اڈہ میں این ایل سی بارڈر ٹرمینل کو کسٹمز پورٹ کا درجہ دے دیا ہے۔
ویلتھ پاکستان (WealthPK) کو دستیاب نوٹیفکیشن کے مطابق، ایف بی آر نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے این ایل سی بارڈر ٹرمینل، انگور اڈہ کو باضابطہ طور پر کسٹمز پورٹ قرار دیا ہے۔ انگور اڈہ، جنوبی وزیرستان کے ضلع اور افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے درمیان سرحد پر واقع ایک قصبہ ہے۔
یہ فیصلہ پاکستانی حکومت کی جانب سے سرحدی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے، کسٹمز کے عمل کو آسان بنانے اور سرحد پار تجارت کو بڑھانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا: ’’کسٹمز ایکٹ 1969 (IV of 1969) کی دفعہ 9 کی شق (a) اور (c)، اور دفعہ 10 کی شق (a) اور (b) کے تحت دیے گئے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے، ایف بی آر این ایل سی بارڈر ٹرمینل، انگور اڈہ، جس کا رقبہ 194.5 کنال ہے، کو مال کی لوڈنگ، اَن لوڈنگ اور کلیئرنس کے لیے کسٹمز پورٹ قرار دیتا ہے۔‘‘
این ایل سی بارڈر ٹرمینل، جو 194.5 کنال پر محیط ہے، اب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی سامان کی آمدورفت کا ایک اہم گیٹ وے ہوگا۔ اس اقدام سے کسٹمز کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے، لاجسٹک آپریشنز بہتر ہونے اور ریونیو میں اضافے کی توقع ہے۔
اس ترقی کے بعد، تاجروں اور درآمد کنندگان کے لیے سامان کی لوڈنگ، اَن لوڈنگ اور کلیئرنس کا عمل مزید آسان اور تیز ہوگا، جس سے بارڈر کے ذریعے قانونی تجارت کا حجم بڑھنے کا امکان ہے۔
ویلتھ پاکستان سے بات کرتے ہوئے ایف بی آر کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ نیا ٹرمینل سرحدی سکیورٹی کو مضبوط بنانے اور پاکستان و افغانستان کے درمیان تجارت کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ ’’نئے کسٹمز پورٹ کے قیام سے ہم نہ صرف سرحد پار تجارت کو سہولت فراہم کر رہے ہیں بلکہ مزید منظم ریونیو پیدا کرنے کے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔ یہ اقدام پاکستان کی معاشی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ کسٹمز آپریشنز میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنائے گا،
اس ٹرمینل کی اسٹریٹجک لوکیشن پاکستان اور افغانستان کے درمیان سامان کی پروسیسنگ کو تیز کرنے کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ یہ سرحدی علاقہ طویل عرصے سے تجارتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے اور نیا کسٹمز پورٹ سامان کے بہاؤ کو ہموار کرنے، اسمگلنگ پر قابو پانے اور قومی خزانے کے لیے اہم ریونیو پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

