0

پاکستان میں بائیو ہیلتھ تل کی کاشت ،زراعت میں نئی بلندیوں کا آغاز

ساہیوال (یوپی اے) گوادر پرو کے مطابق چین کینارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی (NWAFU) کے سلک روڈ بائیو ہیلتھ ایگریکلچر انڈسٹری الائنس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے کا دورہ کیا جہاں وفد نے چین-پاکستان بائیو ہیلتھ ایگریکلچر (BHA) اوورسیز ٹیکنالوجی ڈیمونسٹریشن پارک کے تحت قائم بائیو ہیلتھ سیسم ڈیمونسٹریشن فارم کا معائنہ کیا۔ گوادر پرو کے مطابق یہ فارم چائنہ مشینری انجینئرنگ کارپوریشن (CMEC)، نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی، اور پاکستان کے ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے باہمی اشتراک سے قائم کیا گیا ہے۔

پروجیکٹ لیڈر اور نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی کے پروفیسر ژانگ لیکسن نے گوادر پرو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فریقین کے درمیان قائم مشترکہ آئل سیڈ لیبارٹری کی مدد سے ہم نے اعلیٰ معیار کی چینی تل کی اقسام اور معاون پیداواری ٹیکنالوجیز مقامی سطح پر متعارف کروائیں۔ تجربات کے ذریعے ہم نے پاکستان میں کاشت کے لیے موزوں تل کی اقسام اور بہترین پیداواری عوامل کی نشاندہی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بائیو ہیلتھ تل کی پیداوار کے لیے تکنیکی معیارات بھی تیار کیے اور شائع کیے گئے۔ پروفیسر ژانگ نے مزید بتایا کہ منظم مطالعے اور تربیت کے بعد، نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم پاکستانی طالب علم ڈاکٹر عمار اور دیگر ماہرین منصوبے کے بنیادی تکنیکی عملے کا حصہ بن چکے ہیں۔

دوطرفہ سپلائی چین کے تحت تیار شدہ تل کو سب سے پہلے سی ایم ای سی کے پروسیسنگ پلانٹس میں ابتدائی پراسیسنگ سے گزارا جاتا ہے، جس کے بعد مشترکہ طور پر قائم کی گئی لیبارٹری میں سیمپلنگ اور کوالٹی ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔ معیار پر پورا اترنے والی پیداوار کو بعد ازاں چین برآمد کیا جاتا ہے، جہاں اسے خوراک، ادویات اور صنعتی شعبوں میں مزید پروسیسنگ اور استعمال کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ گوادر پرو کے مطابق اب تک اس منصوبے کے تحت تقریباً 500 ایکڑ رقبے پر محیط 12 معیاری بائیو ہیلتھ تل کے فارم قائم کیے جا چکے ہیں، جو معاہداتی کاشت (contract farming) کے ماڈل پر کام کر رہے ہیں، اور ان کے ساتھ 120 سے زائد مقامی کسانوں کے معاہدے ہو چکے ہیں۔پروفیسر ژانگ کے مطابق گزشتہ سال معاہدے کے تحت کاشت کی گئی تل کی پہلی کھیپ سے تقریباً 3,500 ٹن تل چین برآمد کیا گیا۔ 2025 تک ہمارا ہدف 5,000 ٹن تل کی پراسیسنگ اور برآمد کا ہے، جو جلد حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں نہ صرف فارم اور اس کے گردونواح کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لیے پیداوار، معیار اور آمدنی میں اضافہ کریں گی، بلکہ مقامی کمیونٹی کے لیے 500 سے زائد طویل مدتی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کریں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی ایم ای سی اور این ڈبلیواے ایف یو تل کی نئی اقسام کی افزائش اور چین کی بائیو ہیلتھی زرعی مصنوعات کی پیداوار کی ٹیکنالوجی کو پاکستان بھر میں فروغ دینے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔ گوادر پرو کے مطابق پروفیسر ژانگ نے صحافیوں کو بتایا کہ فارم کا قریبی ہدف اس کاشت کے رقبے کو بتدریج 50,000 ایکڑ سے تجاوز تک لے جانا ہے، جس سے متوقع پیداوار تقریباً 23,000 ٹن ہوگی۔ یہ رقبہ پاکستان میں تل کی مجموعی کاشت کا پانچ فیصد سے زائد بنتا ہے۔اس وقت ملک بھر میں تل کی کل کاشت تقریباً 10 لاکھ ایکڑ پر محیط ہے، جس سے سالانہ اوسط پیداوار 3.5 لاکھ سے 4.5 لاکھ ٹن کے درمیان رہتی ہے، تاہم مختلف عوامل کے باعث پیداوار میں خاصا اتار چڑھاؤ آتا ہے۔

گزشتہ سال شدید بارشوں کے سبب مجموعی پیداوار کم ہو کر 3.1 لاکھ ٹن تک رہ گئی تھی۔انہوں نے کہا اگر جدید زرعی ٹیکنالوجیز کو مزید وسیع پیمانے پر اپنایا جائے تو زیادہ پیداوار والے سالوں میں مجموعی پیداوار 5 لاکھ ٹن سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جو ہمارا آئندہ ہدف بھی ہے۔ گوادر پرو کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ مقامی تل کی اقسام زیادہ تر TS اور TH سیریز سے تعلق رکھتی ہیں، جن میں TS3، TS5، اور TH6 شامل ہیں۔ ڈیمونسٹریشن فارم میں متعارف کرائی گئی 10 تجرباتی اقسام میں سے چار کی فی ایم یو (0.165 ایکڑ) پیداوار 130 کلوگرام سے زائد ہے، جبکہ سب سے زیادہ پیداوار دینے والی قسم کی مقدار 230 کلوگرام تک پہنچ گئی ہے۔ گوادر پرو کے مطابق تاہم، یہ اقسام صرف یونیورسٹی کے داخلی موازنہ جاتی تجربات کے نتائج ہیں؛ حقیقی پیداوار کے لیے مزید مظاہراتی تجربات کی ضرورت ہے۔

چونکہ پاکستان میں سالانہ بارش، دھوپ، اور کھاد کے استعمال کا پیداوار اور معیار پر گہرا اثر پڑتا ہے، اس لیے مختلف موسموں کے مطابق اقسام اور معاون ٹیکنالوجیز کا انتخاب و افزائش اور موسمی پیش گوئیوں کی بنیاد پر مناسب تکنیکی اقدامات تیار کرنا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ گوادر پرو کے مطابق تینوں فریق آن لائن سیمینارز، زمینی دوروں اور ہنر مندوں کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھیں گے، جس میں بایو ہیلتھی تل کی پیداوار کی ٹیکنالوجی اور معیار کے معیارات کی تیاری و اجراء، سیلاب مزاحم اقسام کی کاشت، خاص اعلیٰ کارکردگی والی کھادوں کا استعمال، حیاتیاتی کیڑے مار ادویات اور مدافعتی تیاریوں کی تحقیق و ترقی، ڈرون اسپرے، مشینی کٹائی، ذہین اور جدید انتظامی ماڈلز جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔ گوادر پرو کے مطابق پروفیسر نے کہاوہ بائیو ہیلتھ انڈسٹری چین ماڈل جو کاروباری اداروں، جامعات اور فارمز کو آپس میں جوڑتا ہے، یقیناً پاکستان میں بایو ہیلتھ ایگریکلچر کو فروغ دے گا اور اس کے تسلسل سے خوشحالی اور ترقی کو یقینی بنائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں