کاشغر :(یو پی اے) چین کے سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے کے شہر کاشغر میں منعقدہ 15ویں کاشغر-وسطی و جنوبی ایشیا کموڈیٹی میلے کے دوران پاکستان پر مرکوز خصوصی سیشن میں چین اور پاکستان کے درمیان تعاون کے 12 منصوبوں پر دستخط کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت235 ملین یوان ہے۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق یہ معاہدے کو میلے کے دوران منعقدہ خصوصی “پاکستان فوکسڈ سیشن” میں طے پائے، جس کا موضوع تھا: “ترقی کے مواقع کا اشتراک، سی پیک کی مشترکہ تعمیر”۔ اس سیشن میں تجارت، لاجسٹکس، زراعت، سیاحت، نئی توانائی، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ترقی کے مواقع کا اشتراک، سی پیک کی مشترکہ تعمیر” کے عنوان سے منعقدہ اس ایونٹ میں تجارت، لاجسٹکس، زراعت، سیاحت، نئی توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس پلیٹ فارم نے عملی اور مؤثر تعاون کو فروغ دیا، جس سے چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے اپ گریڈ شدہ ورژن کے نفاذ اور ٹھوس نتائج کو روغ ملا۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق منتظمین نے کہا کاشغر اور پاکستان کے درمیان معاشی و تجارتی تعلقات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اور تجارتی حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں کاشغر اور پاکستان کے درمیان تجارت میں ھزشتہ سال کی نسبت 74 فیصد اضافہ ہوا۔ کاشغر کی 200 سے زائد غیر ملکی تجارتی کمپنیاں پاکستانی مارکیٹ میں فعال ہیں، جبکہ 56 پاکستانی کمپنیاں کاشغر میں موجود ہیں، جو بین الاقوامی لاجسٹکس، درآمدات و برآمدات اور جیولری کی پراسیسنگ جیسے شعبوں میں سرگرم ہیں۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق گلگت بلتستان، پاکستان کے ہنزہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ندیم عالم نے کہا کہ سی پیک نے دو طرفہ روابط کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے، اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، سیاحت، توانائی، اور تجارت و سرمایہ کاری کے عمل کو بہتر بنانے میں عملی تعاون کریں گے، تاکہ ایک متحرک اور مؤثر اقتصادی و تجارتی پلیٹ فارم تشکیل دیا جا سکے۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق 15واں کاشغر-وسطی و جنوبی ایشیا کموڈیٹی میلہ 15 اگست کو شروع ہوا، جس میں پاکستان، کرغزستان، قازقستان سمیت 40 ممالک اور خطوں سے شرکاء نے شرکت کی۔ پانچ روزہ اس میلے میں 181 غیر ملکی اور 1,120 ملکی کمپنیاں اپنی مصنوعات پیش کر رہی ہیں اور علاقائی اقتصادی تعاون کو فروغ دے رہی ہیں۔
0

