کوئٹہ (یوپی اے)اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر)اور چین کی معروف شمسی توانائی کمپنی لونگی گرین انرجی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے اشتراک سے کوئٹہ کے بولان میڈیکل کمپلیکس کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے سے سالانہ 7 کروڑ روپے کی بچت جبکہ 468 ٹن کاربن کے اخراج میں کمی متوقع ہے۔ گوادر پروکے مطابق یہ صاف توانائی پر مبنی منصوبہ پائیدار صحت کے نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو نہ صرف افغان مہاجرین بلکہ بلوچستان میں مقامی پاکستانی کمیونٹی کو بھی فائدہ پہنچائے گا۔
گوادر پروکے مطابق لونگی نے اس منصوبے کے لیے اپنی جدید Hi-MO 9 سولر ماڈیولز فراہم کیں، جو کہ 670 واٹ تک کی بجلی اور 24.8 فیصد تک توانائی تبدیلی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ ماڈیولز شدید گرمی، نمی اور دیگر سخت موسمی حالات میں بھی بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں۔ گوادر پروکے مطابق یہ نظام سالانہ تقریباً 1.16 لاکھ کلو واٹ گھنٹے صاف توانائی پیدا کرے گا، جو بلوچستان کے بڑے ہسپتالوں میں سے ایک کی تمام توانائی ضروریات کو پورا کرے گا۔ گوادر پروکے مطابق اب تک، تین سرکاری ہسپتالوں کو مستحکم بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا چکی ہے، جس سے طبی عملہ بغیر کسی بجلی کی رکاوٹ کے اپنا کام انجام دے رہا ہے – یعنی مسلسل اور مؤثر طبی نگہداشت ممکن ہوئی ہے، جس سے قیمتی جانیں بچائی جا رہی ہیں۔ ان ہسپتالوں کی جانب سے سالانہ 4.5 لاکھ امریکی ڈالر کی بچت بھی ہو رہی ہے۔ گوادر پروکے مطابق اس سے بڑھ کر، یہ اقدام روزمرہ زندگی میں بہتری لا رہا ہے اور محفوظ ماحول فراہم کر رہا ہے، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے لیے۔
لونگی، یو این ایچ سی آر کے ساتھ مل کر پاکستان میں اسکولوں کی سہولیات کو بہتر بنانے اور بے گھر لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس منصوبے کی افتتاحی تقریب بولان میڈیکل کمپلیکس میں منعقد ہوئی، جس میں محکمہ صحت بلوچستان کے اسپیشل سیکریٹری شہاک بلوچ، پاکستان میں یو این ایچ سی آر کی نمائندہ فلیپا کینڈلر، کوئٹہ میںیو این ایچ سی آر کے سربراہ تسفائے بیکلے، افغان مہاجرین کے کمشنر ارباب طالب، بولان میڈیکل کمپلیکس کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر لیاقت بلوچ اور دیگر معززین نے شرکت کی

