اسلام آباد : سینٹر فار ایروسپیس اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز (کَیس) لاہور نے ۲۸ اگست ۲۰۲۵ کو ایک سیمینار بعنوان “آسمانوں پہ غلبہ: جدید جنگوں میں فضائی میدان کا تزویراتی استعمال” کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں ماہرینِ تعلیم، طلبہ، دانشوروں اور متعلقہ ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کَیس ایک خودمختار فکری ادارہ ہے جو قومی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں محققین اور پالیسی سازوں کے لیے باقاعدگی سے علمی سرگرمیوں کا اہتمام کرتا ہے۔ افتتاحی کلمات ندا شاہد، ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کَیس لاہور، نے پیش کیے۔
اپنے کلیدی خطاب میں ایئر مارشل (ریٹائرڈ) عاصم سلیمان، صدر کَیس لاہور، نے کہا کہ فضائی طاقت ایک گہرے تغیر سے گزر رہی ہے اور لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور پریسیژن گائیڈڈ میزائلوں کے امتزاج سے تشکیل پا رہی ہے، جسے انہوں نے “فضائی طاقت کی تکون” قرار دیا۔ اس نئے ماڈل پر عبور حاصل کرنے کے باعث پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کو رفتار اور نشانے کی درستگی دونوں میں پیچھے چھوڑ دیا۔ انہوں نے موجودہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو اس بات کا کریڈٹ دیا کہ انہوں نے ایک مرکزیت پر مبنی کمانڈ سسٹم قائم کیا جس نے ایک بے مثال ملٹی ڈومین کل چین تخلیق کی۔ ان کے مطابق آپریشن ضربِ کرّار نے بھارت کی تیکنیکی برتری کے تمام دعوے خاک میں ملا دیے، رافیل، ایس-۴۰۰ اور برہموس جیسے ہتھیار ناکام بنائے، اور بھارتی فضائیہ کی ان کمزوریوں کو بے نقاب کیا جو اسے مختلف شعبوں میں برتری حاصل کرنے سے روک دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اگرچہ ایک “نیا معمول” قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن حقیقت میں اس نے ایک “نیا غیر معمول” تخلیق کر دیا، جو نہ کسی ٹھوس بنیاد پر ہے، نہ واضح ہے اور نہ ہی نتائج دینے کے قابل۔ آخر میں انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھارت کی جنگ پسند سیاسی قیادت کی ہوا نکال دی۔
ڈاکٹر رابعہ اختر، ڈین یونیورسٹی آف لاہور، نے زور دیا کہ میزائلوں کے مؤثر استعمال کے لیے مشترکہ تربیت، انٹیلیجنس، نگرانی اور معلومات اکٹھی کرنے کا نظام (آئی ایس آر) اور انٹروپریبلٹی لازمی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرمی راکٹ فورس کمانڈ (اے آر ایف سی) کا قیام ایک فیصلہ کن قدم ہے اور روایتی ڈیٹرنس کی سمت ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم اس کے نظریاتی خدوخال کی وضاحت مزید شفافیت فراہم کرے گی کہ یہ کس طرح ہماری روایتی صلاحیتوں کو تقویت دے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اے آر ایف سی کو لازماً آئی ایس آر، انتہائی درستگی اور ایک ناقابلِ شکست کل چین سے لیس ہونا چاہیے۔
ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) خالد بنوری، سینئر مشیر ٹریننگ، پروجیکٹ فینکس، ایئر ہیڈکوارٹرز، نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جنگ کے خدوخال کو بدل رہی ہے کیونکہ اب الگوردمز انسانی فیصلوں میں معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے ضربِ کرّار کو پاکستان کا “اوپن ہائیمر لمحہ” قرار دیا اور کہا کہ مخصوص ہتھیاروں کا حصول، حقیقت پر مبنی تربیت اور مدبرانہ قیادت پاک فضائیہ کی کامیابی کے بنیادی عناصر تھے۔ انہوں نے ملٹی ڈومین آپریشنز کو “نئی حقیقت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسٹریٹجک اور ٹیکٹیکل دونوں سطحوں پر افواجِ پاکستان کے درمیان ہم آہنگی نے جنگ میں فتح دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی یکجہتی پر مبنی حکمتِ عملی درکار ہوگی۔
اپنے اختتامی کلمات میں ایئر مارشل (ریٹائرڈ) عاصم سلیمان نے کہا کہ آنے والی جنگوں کا فیصلہ رفتار، درستگی اور کراس ڈومین انضمام سے ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنی انقلابی صلاحیتوں کے ذریعے جنوبی ایشیا کے تزویراتی ڈھانچے کو نئی شکل دے رہی ہیں۔ سیمینار کا اختتام ایک بھرپور مباحثے کے ساتھ ہوا جس میں شرکاء نے مستقبل کی جنگی حکمتِ عملیوں، ملٹی ڈومین ایئر پاور کے ارتقا اور اس کے نظریاتی و عملی تقاضوں پر سیر حاصل گفتگو کی

