0

مذاکرات کی پیشکش کے باوجود آزاد کشمیر میں پُرتشدد مظاہرے جاری

حکومت کی بارہا مذاکرات کی پیشکش کے باوجود آزادکشمیر میں پُرتشدد مظاہرے نہ رکے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی آڑ میں شرپسندوں نے آج بھی قانون کو بندوق کی نوک پر رکھا۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہروں کی آڑ میں شرپسندوں کی پُرتشدد کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ شرپسندوں نے پولیس اہلکاروں پر دھاوا بول دیا، کیلوں والے ڈنڈے مارے، اسلحہ چھین کر گولیاں چلادیں۔ پولیس پر حملے، تشدد کرکے اسلحہ اور دیگر سامان چھین لیا۔

مشتعل مظاہرین نے اسلام آباد پولیس کے جوانوں کو بھی نشانے پر رکھ لیا۔ زخمی اہلکاروں نے بتایا کہ شرپسندوں نے یرغمال بناکر وردیاں پھاڑدیں۔ پتھر اور کیل والے ڈنڈے مارے۔ اسلحہ چھین کر پولیس پر فائرنگ بھی کی۔ وفاقی پولیس کے 31 اور آزاد کشمیر پولیس کے 12 زخمی اہلکاروں کو پمز اسپتال منتقل کرنا پڑا۔

مظفرآباد، میرپور اور راولاکوٹ سمیت کئی اضلاع میں ہنگامے ہوئے، پرتشدد احتجاج اور مظاہروں کی وجہ سے وادی میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے نے پمز میں زیرعلاج اہلکاروں کی عیادت کی اور حوصلہ بڑھایا۔ خبردار کردیا کہ شرپسندوں کے مذموم مقاصد کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں