ساہیوال ( یو پی اے )آل پارٹیز کانفرنس مختلف مکاتب فکر کا پاک فوج سے اظہار یکجہتی ساہیوال پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع ساہیوال ملک کی موجودہ صورتحال اور قومی سلامتی کے پیش نظر مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر آپریشن بنیان المرصوص کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی قیادت میں عشرہ تشکر منانے کا اعلان کیا اور پاک فوج سے مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے
آل پارٹیز کانفرنس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام، مشائخ اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس کا عنوان استحکام پاکستان و بنیان مرصوص رکھا گیا تھا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاک فوج نے ہمیشہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ خطے کی سب سے مضبوط اور پیشہ ور فوج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج عالم اسلام کے دلوں کی دھڑکن بن چکی ہیں اور اسلام دشمن قوتوں کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی تقریب میں ڈپٹی جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ سے انجنئیر حارث ڈار صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک جن نازک حالات سے گزر رہا ہے،
اس میں سیاسی اور عسکری قیادت کا متحد ہونا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستانی افواج کو حرمین شریفین کے محافظ ہونے کا شرف عطا کیا ہے، جو کسی اور فوج کو حاصل نہیں قاری اظہار الحق صاحب نے کہا کہ وطن کی سرحدوں کی حفاظت سپہ سالار کی ذمہ داری ہے جبکہ نظریے کی حفاظت علماء کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مدارس کے 30 لاکھ طالبعلم فوج اور قوم کی رہنمائی کے منتظر ہیں رہنما سول سوسائٹی شیخ اعجاز رضا صاحب نے پاک فوج کے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کی شدید مذمت کی
جمعیت اہلحدیث کے علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری نے واضح کیا کہ کسی بھی نام نہاد سیاست دان کو پاک فوج کے سپاہیوں کے خلاف بیان بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی کانفرنس کے شرکاء نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ فتنہ الخوارج کے خاتمے کے لیے علماء اور عوام کو پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور قومی اتحاد و مذہبی ہم آہنگی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تقریب سے خطاب کرتے ہوۓ جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع ساہیوال جناب ارشد نواب جٹ صاحب نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ یہ پیغام دیا گیا کہ ہم یہ عشرہ تشکر منبتے ہوۓ ملک کی سالمیت اور دفاع کے لیے پوری قوم ایک ہے اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
اس کے علاوہ جماعت اسلامی ، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی مومنٹ و دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی خطاب کیا

