0

مقدس کلمات کا تحفظ — قلم سے نہیں، عمل سے

تحریر:محمد وسیم

اسلام ہمیں ادب، اخلاق، اور شعور کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ کی احادیث اور قرآن مجید کی آیات ہر مسلمان کے لیے ہدایت اور رحمت ہیں۔ ان کا احترام ایمان کا حصہ ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم میں سے اکثر انجانے میں یا بے فکری سے ایسے عمل کر رہے ہیں جو ان مقدس کلمات کی بے ادبی کے مترادف ہیں۔
روزانہ کے اخبارات میں نہ صرف احادیثِ مبارکہ بلکہ قرآنی آیات بھی چھاپی جاتی ہیں اکثر اوقات پہلے صفحے کے اوپر کالے رنگ کے خانے میں درج ہوتا ہے
“قرآنی آیات اور احادیثِ نبوی ﷺ اسلام کا احترام آپ پر لازم ہے۔”
یہ جملہ بظاہر ہمیں ادب یاد دلاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اخبار والے خود اس پر عمل کیوں نہیں کرتے؟
قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ کی اشاعت یقیناً نیکی کی نیت سے کی جاتی ہے، لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی حفاظت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ روزمرہ کے اخبارات کی فطرت وقتی اور عارضی ہوتی ہے ایک دن بعد وہ ردی کا حصہ بن جاتے ہیں، جنہیں عام طور پر زمین پر پھینکا جاتا ہے، اس طرح مقدس الفاظ بے ادبی کا شکار ہو کر نہ صرف ہماری غفلت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اجتماعی گناہ کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔
آپ نے خود کئی بار دیکھا ہوگا کہ اخبار کے صفحات زمین پر پڑے ہوتے ہیں۔ کبھی نالی میں بہہ رہے ہوتے ہیں، کبھی کچرے میں ملے ہوتے ہیں، کبھی چیزیں لپیٹنے یا کھڑکی، شیشہ صاف کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہوتے ہیں۔ ان میں وہی صفحات شامل ہوتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا نام، قرآنی آیات، اور رسول پاک ﷺ کی احادیث شائع کی گئی ہوتی ہیں۔
کیا ہم واقعی اس قابل ہیں کہ قرآن و حدیث کو گندگی یا بے ادبی کی جگہ پہنچا دیں؟ کیا یہ وہی امت ہے جو زبان سے کہتی ہے کہ ہمیں آپ ﷺ سے محبت ہے مگر عمل سے اس محبت کا کوئی ثبوت نظر نہیں آتا؟ ہم سب کو علم ہے کہ قرآن و حدیث کسی عام بات کا نام نہیں۔ یہ نور ہے، ہدایت ہے، اللہ کی طرف سے عطا کردہ علم ہے۔ ان کا مقام دل میں ہونا چاہیے، نہ کہ زمین پر یا ردی میں۔
اسلامی تعلیمات اور دینی ادب کی اشاعت میں دنیا کے مختلف اسلامی ممالک خاص حساسیت اور احتیاط برتتے ہیں۔ ان ممالک میں قرآن پاک کی آیات، احادیث نبویﷺ اور دیگر مذہبی مواد کی اشاعت مخصوص اصولوں کے تحت ہوتی ہے تاکہ ادب و احترام کا دائرہ ہر حال میں قائم رہے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:
سعودی عرب میں مذہبی مواد کی اشاعت کا سخت نظم و ضبط ہے۔ عام اخبارات میں احادیث یا قرآنی آیات کی اشاعت عمومی طور پر نہیں کی جاتی، بلکہ یہ کام مخصوص دینی رسائل یا سرکاری اداروں کے تحت شائع ہونے والے مواد تک محدود ہوتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی مقدس عبارت بے ادبی کا شکار نہ ہو۔
ترکی میں بھی مذہبی مواد، خصوصاً احادیث، عام اخبارات کی بجائے مخصوص ضمیموں یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شائع کی جاتی ہیں۔ وہاں عوامی سطح پر بھی مذہبی مواد کے ادب و احترام کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ملائشیا، مراکش، اور انڈونیشیا جیسے اسلامی ممالک میں بھی مذہبی مواد کے لیے خاص احتیاط کی جاتی ہے۔ ان ممالک میں اخبارات کے لیے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ دینی مواد کو عام خبروں کے ساتھ شامل نہ کیا جائے بلکہ اس کے لیے الگ صفحات یا ضمیمےاستعمال کیے جائیں تاکہ ادب کا دائرہ برقرار رہے۔ یہ ممالک دینی مواد کی اشاعت میں خصوصی احتیاط برتتے ہیں۔ اخباروں میں قرآنی آیات یا احادیث عام صفحات پر نہیں چھاپی جاتیں۔ یہاں تک کہ اخبارات کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ مذہبی مواد کو الگ انداز میں، ادب کے ساتھ شائع کیا جائے۔ پاکستان میں متعدد اردو و انگریزی اخبارات پہلے صفحے پر قرآنی آیات اور احادیث شائع کرتے ہیں۔ نیچے تنبیہ بھی درج ہوتی ہے کہ “براہِ کرم اس صفحے کا ادب کریں” مگر اس ادب کا عملی مظاہرہ کہیں نظر نہیں آتا۔
کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں ایک مذہبی طالبعلم کو نالی میں بہتے اخبار کا ایک ورق ملا۔ جب اس نے اٹھا کر دیکھا تو اس پر نبی کریم ﷺ کی حدیثِ مبارکہ درج تھی
“المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده”
(مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں)
وہ نوجوان آبدیدہ ہو گیا اور اسی وقت قریبی مسجد کے امام صاحب سے رجوع کیا۔ امام صاحب نے جمعے کے خطبے میں اس واقعے کا ذکر کیا اور کہا
یہ ایک واقعہ ہزاروں واقعات کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایسے کئی مناظر ہم روز دیکھتے ہیں مگر کبھی ان پر غور نہیں کرتے۔”اگر ہم اپنے نبی کی باتوں کو نالیوں میں بہا احادیثِ مبارکہ اور قرآنی آیات ہمارے ایمان کی روح ہیں۔ اگر ہم ان کا احترام صرف زبان تک محدود رکھیں اور عمل میں اس کا عکس نہ ہو، تو یہ ہمارے ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔ اگرچہ ان مقدس کلمات کی اشاعت ایک نیک نیتی کا اظہار ہو سکتی ہے، لیکن جب یہی الفاظ بے احتیاطی کے باعث زمین پر گرتے ہیں یا کچرے کا حصہ بن جاتے ہیں، تو یہ نیکی بے ادبی میں بدل جاتی ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم صرف عقیدت کے دعووں سے آگے بڑھیں اور عملی اقدامات کریں۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور قرآنی پیغام کو عزت و وقار کے ساتھ محفوظ رکھیں۔ اخباری ادارے، پبلشرز اور صحافی برادری جدید ذرائع جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، موبائل ایپلیکیشنز، اور QR کوڈز کو اختیار کریں تاکہ دین کا پیغام زیادہ بااحترام انداز میں عام ہو، اور مقدس الفاظ کی بے ادبی سے مکمل طور پر بچا جا سکے۔
یہ تحریر صرف ایک فریاد نہیں، بلکہ ایمان، شعور، اور محبتِ رسول ﷺ کی ایک اجتماعی صدا ہے۔ آئیے ہم سب عہد کریں کہ ہم اپنی نسلوں کو ادب سکھائیں، دین کے پیغام کو عزت سے آگے بڑھائیں، اور کوئی حدیث یا قرآنی آیت آئندہ کبھی زمین پر نہ گرنے دیں — کیونکہ یہی سچا عشقِ رسول ﷺ اور قرآن کا حقیقی احترام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں