0

نیشنل لائبریری میں ”قومی ترقی کیلئے نوجوانوں کو بااختیار بنانا” کے موضوع پر سیمینار

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) قومی لائبریری آف پاکستان نے معرکہ حق اور یومِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں ”قومی ترقی کے لیے نوجوانوں کو بااختیار بنانا” کے عنوان سے ایک شاندار اور پُراثر سیمینار کا انعقاد کیا۔ یہ سیمینار ملک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین، اساتذہ، طلبہ اور پالیسی سازوں کی ایک عظیم فکری نشست تھی، جس کا مقصد نوجوانوں میں حب الوطنی، قیادت، جدت اور تعلیمی و فکری ترقی کا شعور اجاگر کرنا تھا۔

تقریب میں شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور ملک کی معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی میں ان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔مہمانِ خصوصی محترمہ علی بیگم، سابق وفاقی سیکرٹری، نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”ملکی ترقی کی اصل بنیاد آپ کا علم، آپ کی محنت اور آپ کی ایمانداری ہے۔ اگر نوجوان نسل عزم کے ساتھ آگے بڑھے تو کوئی طاقت پاکستان کو ترقی سے نہیں روک سکتی۔”معزز مہمانِ مقرر سید ابو احمد آکف، سابق وفاقی سیکرٹری، نے اپنے خطاب میں نوجوان قیادت، پالیسی سازی، اور پائیدار ترقی کے تقاضوں پر جامع روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ ”پاکستان کا مستقبل صرف اور صرف اس کی نوجوان نسل کی قابلیت اور کردار پر منحصر ہے۔”ڈاکٹر عبدالباسط مجاہد، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تاریخ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد، نے پاکستان کی آزادی کے تاریخی پس منظر اور معرکہ حق کے اسباق کو نہ صرف تاریخ کا حصہ بلکہ موجودہ اور آنے والے وقتوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ قرار دیا۔تقریب کا آغاز قومی لائبریری آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل رانا یاسر بھون کے خیرمقدمی کلمات سے ہوا، جنہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور مثبت قیادت کے مواقع فراہم کرنا ایک مضبوط اور خود مختار پاکستان کی تعمیر کی بنیادی شرط ہے۔تقریب میں ماڈل اسکولز اسلام آباد کے طلبہ و طالبات نے نہ صرف دلکش ملی نغمے اور حب الوطنی سے لبریز اسٹیج پرفارمنس پیش کی بلکہ موضوع پر مختصر مگر پُراثر تقاریر بھی کیں۔

ان تقاریر میں نوجوان مقررین نے اپنے خواب، امیدیں اور چیلنجز بیان کرتے ہوئے عہد کیا کہ وہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں وقف کریں گے۔شرکاء نے اس سیمینار کو ایک مثبت اور حوصلہ افزا تجربہ قرار دیا، جس نے نہ صرف نوجوانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ فراہم کیا بلکہ قومی لائبریری آف پاکستان کو ایک ایسے ادارے کے طور پر پیش کیا جو علم، قیادت اور قومی شعور کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں