مانچسٹر (وسیم عباس) پاکستانی کرکٹر حیدر علی کے خلاف مانچسٹر پولیس نے مبینہ ریپ کیس ناکافی شواہد کی بنیاد پر خارج کردیا۔ پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران حیدر علی کے خلاف لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنے کے لئے خاطر خواہ ثبوت سامنے نہیں آئے۔
حیدر علی پر ایک برٹش پاکستانی خاتون نے ریپ کا الزام عائد کیا تھا۔ خاتون کی کرکٹر سے پہلی ملاقات 23 جولائی کو مانچسٹر کے ایک ہوٹل میں ہوئی تھی جبکہ دوسری ملاقات یکم اگست کو کینٹ کے علاقے ایشفورڈ میں ہوئی۔ الزامات کے تقریباً دو ہفتوں بعد پولیس نے حیدر علی کو اسپٹ فائر کاؤنٹی کرکٹ گراؤنڈ کینٹ کے پلیئرز کینٹین آفس سے گرفتار کیا، تاہم گرفتاری کے وقت انہیں ہتھکڑیاں نہیں لگائی گئیں اور بعدازاں کینٹربری پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے کرکٹر سے اضافی وقت کے لئے ریمانڈ بھی لیا تھا، تاہم کوئی الزام ثابت نہ ہوسکا۔ کیس خارج ہونے کے بعد مانچسٹر پولیس نے ان کا پاسپورٹ بھی واپس کردیا جس کے بعد وہ آج برطانیہ سے پاکستان روانہ ہوگئے۔
کرکٹر حیدر علی نے روز اول سے ہی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔ ان کی قانونی نمائندگی بیرسٹر معین خان نے کی۔ کیس ختم ہونے کے بعد اب حیدر علی آزادانہ طور پر برطانیہ آ جا سکیں گے

