0

ساہیوال ،مفت ادویات کا بحران سنگین، پنجاب حکومت کے دعوے دھرے رہ گئے

ساہیوال ( یو پی اے ) ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں مفت ادویات کا بحران سنگین پنجاب حکومت کے دعوے، فارمیسی خالی ہیں ساہیوال کے ایم ایس کے موقف پر سوالیہ نشان ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں پنجاب حکومت کی جانب سے آویزاں “مفت ادویات” کے بینرز اور اعلانات کے باوجود سرکاری فارمیسی میں زیادہ تر ضروری دوائیں دستیاب نہیں، جس کے باعث ہزاروں مریض شدید اذیت کا شکار ہیں

ذرائع کے مطابق حکومتِ پنجاب نے جن ادویات کی فہرستیں ہسپتال کو فراہم کی ہیں، ڈاکٹر وہی ادویات مریضوں کو تجویز کر رہے ہیں، تاہم جب مریض یہ پرچیاں لے کر سرکاری فارمیسی پہنچتے ہیں تو اکثر انہیں جواب ملتا ہے کہ مطلوبہ ادویات اسٹاک میں موجود نہیں مریضوں کا کہنا ہے کہ اگر پرچی پر تین ادویات درج ہوں تو انہیں بمشکل ایک دوا دی جاتی ہے، اور وہ بھی صرف ایک دن یا زیادہ سے زیادہ دو دن کی خوراک کے لیے، جبکہ باقی ادویات باہر سے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے ایم ایس کا موقف، زمینی حقائق کے برعکس ہے ادویات کے بحران پر جب ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ “ادویات موجود ہیں”، تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ مریضوں کو صرف ایک یا دو دن کی دوا کیوں دی جاتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ “یہ ہماری مجبوری ہے، ہمارے پاس زیادہ ادویات موجود نہیں، اسی لیے ہماری پالیسی ہے کہ مریض کو ایک یا دو دن سے زیادہ کی دوا نہ دی جائے ایم ایس کے اس بیان کے برعکس، ہسپتال کی سرکاری فارمیسی پر مریضوں کو اکثر یہی جواب دیا جا رہا ہے کہ مطلوبہ ادویات سرے سے موجود ہی نہیں،

جو انتظامیہ کے دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہےسفارش والوں کے لیے سہولت، عام مریض محروم متعدد مریضوں اور تیمارداروں نے انکشاف کیا ہے کہ جن افراد کی اندرونی “رسائی” یا سفارش ہوتی ہے، انہیں یہی ادویات اسی سرکاری فارمیسی سے فراہم کر دی جاتی ہیں، جبکہ عام شہری خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہیں او پی ڈیز میں صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے۔ بزرگ، خواتین اور سنگین بیماریوں میں مبتلا مریض دوا نہ ملنے پر بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں عوام کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کے “مفت ادویات” کے دعوے ہسپتال کی دیواروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور محکمہ صحت ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں ادویات کی عدم دستیابی، مبینہ بدانتظامی اور امتیازی سلوک کا فوری نوٹس لیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ غریب مریضوں کو ان کا بنیادی حق مل سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں