ساہیوال ( یو پی اے) ساہیوال میں رمضان المبارک شروع ہوتے ہی بہکاریوں کی یلغار مزید بڑھ گئی متعلقہ محکمے پروفیشنل بھیکاری مافیہ کے خلاف کاروائی کرنے میں مکمل ناکام نظر آتی ہے حکومتی پالیسی اور احکامات کے باوجود ساہیوال پولیس ان بھیکاری مافیہ کے چنگل سے شہریوں کو بچانے میں ناکام نظر آتی ہے بھیکاری کے روپ میں یہ مرد و خواتین کے ساتھ ساتھ نو عمر بچیاں بھی اس مکروہ دھندہ میں شامل نظر آتی ہیں ،
صبح سویرے ساہیوال کی نواحی آبادیوں سے یہ بھیکاری مافیہ ٹولیوں کی شکل میں اپنے اپنے مقررہ علاقوں اور تجویز کئے گئے مقامات پر ڈیوٹی سنبھال لیتے ہیں اور شہریوں کو آتے جاتے کبھی دعا اور کبھی بددعا دیتے ہوے انکی جیبوں پر نظر رکھے ہوے مجبور کرتے ہیں کہ انہیں 10 یا 20 نہیں کم از کم لال نوٹ دیا جاے شہر کے مختلف چوک چوراہوں، سگنلز، مساجد، بیکریوں دیگر تجارتی مراکز یہاں تک کہ مختلف سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی یہ مافیہ سرگرم نظر آتا ہے مگر ساہیوال پولیس انکو اندیکھا کر کے کنی کتراتے ہوے گزر جاتی ہے شائد مافیہ اتنا مضبوط ہے یا اداروں کو پیسے کی چمک نے اندھا کر رکھا ہے
گزشتہ رات ٹینکی چوک سگنل پر بھی ایک خوفناک حادثہ رونما ہوتے ہوتے بچ گیا جس میں ٹینکی چوک پر ڈیوٹی دیتا معزور بھیکاری اور تیز رفتار موٹر سائیکل رکشہ ڈرائیور میں ایکسیڈنٹ ہوا مگر خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جس میں دونوں کی غلطی تھی ساہیوال کی عوام سے ڈی پی او ساہیوال عثمان ٹیپو ، ڈپٹی کمشنر ساہیوال کیپٹن ریٹائرڈ سمیع اللہ ، پیرا فورس سے اپیل کی ہے کہ ان پروفیشنل بھیکاری مافیہ کے خلاف کاروائی کر کے شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جاے اور حکومتی ہدایات و احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جاے

