ساہیوال( یو پی اے ) پٹرول کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتیں اور پٹرول پمپس مافیا کی مبینہ طور پر خراب پیمانوں نے پٹرول کو عوام کے لیے مزید مہنگا کر دیا ہے جس سے عوام کو مہنگائی کے اس دور میں نجات دلائی جائے اور پٹرول پمپس مافیا کی غیر قانونی حرکات کا فوری نوٹس لیا جائے ذرائع کے مطابق جب کوئی شخص بوتل میں پٹرول لینے کے لیے آتا ہے تو اسے پٹرول پورا ڈال کے دیا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس گاڑیوں موٹر سائیکلوں رکشوں میں پٹرول پورا نہیں ڈالا جاتا اگر کسی کار کی ڈگی 30 لیٹر کی ہے تو پٹرول اس میں 35 لیٹر سے بھی زیادہ ڈالا جائے تو وہ فل ہوتی ہے
اسی طرح موٹر سائیکلوں میں بھی پٹرول ٹینکی کی کپیسٹی سے زیادہ ڈالا جا رہا ہے ذرائع کے مطابق پٹرول پمپوں پر جہاں ان کی مشینیں فٹ ہیں وہاں پر کنٹرول روم میں ایسے آلات لگائے گئے ہیں کہ اگر بٹن دبا دیا جائے تو گاڑیوں میں پٹرول ایک لیٹر پورا ڈالنے کی بجائے چار پوائنٹ کم ہو جاتا ہے اس طرح یہ پٹرول پمپس مافیا کا معمول بن چکا ہے جب کوئی آفسر چیک کرنے کے لیے آئے تو اس کمرے میں موجود شخص وہ بٹن کو آف کر کے ٹھیک مقدار میں پٹرول دینا شروع کر دیتا ہے
اسی طرح دو لیٹر کی اگر بوتل میں پٹرول ڈلوانے کے لیے کوئی آتا ہے تو پھر پٹرول ڈالنے والا فلر کمرے میں بیٹھے ہوئے شخص کو اشارہ کر دیتا ہے اس طرح بوتل میں پورا پٹرول ڈال کر دیا جاتا ہے عوام نے وزیراعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول پمپس کے پیمانے اور جو انہوں نے پٹرول والی مشینوں کے کنٹرول روم میں جو خفیہ آلات لگائے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ان کے پیمانے ٹھیک نہیں چلتے ان کو چیک کیا جائے

