0

جہاں اظہارِ رائے پر قدغنیں لگائی جاتی ہیں وہاں صحافت بھی دب جاتی ہے

ساہیوال( یو پی اے ) صدر ساہیوال پریس کلب رجسٹرڈ ساہیوال رانا جا وید نثار نے کہا ہے کہ آزادی صحافت دراصل انسانی بنیادی حقوق میں سے ایک اہم حق یعنی آزادی اظہارِ رائے سے جڑی ہوئی ہے جب کسی معاشرے میں لوگوں کو کھل کر بولنے، لکھنے اور اپنے خیالات کے اظہار کی آزادی حاصل ہوتی ہے تو وہاں صحافت بھی آزاد اور مضبوط ہوتی ہے۔

اس کے برعکس جہاں اظہارِ رائے پر قدغنیں لگائی جاتی ہیں وہاں صحافت بھی دب جاتی ہے، اور یوں سچائی کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ ایک آزاد صحافت معاشرے کے لیے روشنی کا مینار ہوتی ہے، جو لوگوں کو صحیح اور غلط میں فرق سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔اقوام متحدہ نے 1993 میں 3 مئی کو باضابطہ طور پر عالمی یومِ آزادیِ صحافت قرار دیا۔

اس اقدام کا مقصد دنیا بھر میں صحافت کی آزادی کو فروغ دینا اور صحافیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔رانا جا وید نثار نے مزید کہا کہ آج کے دور میں آزادیِ صحافت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے بدقسمتی سے دنیا کے کئی ممالک میں آج بھی صحافیوں کو آزادی سے کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہیں سنسرشپ، دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بعض اوقات تو سچ بولنے کی پاداش میں انہیں اپنی جان تک گنوانی پڑتی ہے۔ ایسے حالات میں آزادیِ صحافت کا عالمی دن ان بہادر صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو ہر خطرے کے باوجود حق کا علم بلند رکھتے ہیں یقیناً جس دن ہمارے صحافی حقیقی معنوں میں آزاد ہو جائیں گے، اُس دن ہمارا معاشرہ اور جمہوریت دونوں مضبوط ہوں گے۔آزادی صحافت زندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں